تشنہ لب
مرزا کے تنگدستی کے دنوں میں جب پنشن وغیرہ بند تھی اور پینے پلانے کا سامان مہیا نہیں تھا، اپنے ایک خط میں اپنی حالت کو یوں بیان کرتے ہیں۔
"میر مہدی، صبح کا وقت ہے، جاڑا خوب پڑ رہا ہے، انگھیٹی سامنے رکھی ہوئی ہے، دو حرف لکھتا ہوں، ہاتھ تاپتا جاتا ہوں، آگ میں گرمی سہی مگر وہ آتشِ مے...