بہت فکر انگیز باتیں ہیں فاتح صاحب، مگر کوئی سوچے تو پھر نا۔
ابھی آج ہی خبر تھی کہ چیف جسٹس کیس میں سرکاری وکیلوں کو، سرکاری خزانے سے، ایک کروڑ روپیہ صرف "فیس" کی مد میں دیا گیا۔ اصل رقم یقیناً اس سے زیادہ ہے کہ ٹی۔اے ڈی۔اے وغیرہ اور دیگر اخراجات کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ شریف الدین پیرزادہ...