فاتح صاحب، ماوراء صاحبہ، ظفری بھائی، پوچھی صاحبہ، سیدہ شگفتہ صاحبہ اور پروفیسر تفسیر صاحب، آپ سب کا بہت شکریہ۔
فاتح، فارسی، عربی میں ماہر ہونے والا معاملہ تھوڑا گھمبیر ہوگیا ہے، یقین مانیے میں ان زبانوں سے بالکل نابلد ہوں، رہے محاورے تو وہ اب اردو کا ہی حصہ ہیں۔ زندگی کی سب سے بڑی کمی بھی یہی...
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
بے وجہ...
قبلہ شامی صاحب، یہ آپ نے اپنا فصیح و بلیغ کلام ادھر اصلاح سخن میں کیوں رکھ دیا، حضور اسے "آپ کی شاعری" میں ڈالتے۔
کس کی جرأت ہے کہ آپ کے کلام کو ہاتھ لگا کر، سر دھڑ کی بازی لگا دے۔
۔
جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا
کیفیت
۔