بہت خوب رضوان صاحب، بہت اچھی تحریر ہے اور یہ اختتام تو لاجواب ہے۔
"شہزادی نے انتہائی حسرت سے جواب دیا کہ “ پیارے ہموطنو! تمہیں دیکھ کر مسکرانا تو فطری امر تھا کہ تمہاری بہادری اور جرات کی وجہ سے مجھے آزادی نصیب ہورہی ہے، لیکن اگلے ہی لمحے اس خیال سے اداس ہوگئی کہ اگر تم اتنے ہی بہادر ہوتے تو...