(عطاءالحق قاسمی)
جب بھی شام کو سورج ڈوبنے لگتا ہے
ایسے میں یہ دل بھی ڈولنے لگتا ہے
آنکھوں میں پھر جاتی ہے وہ سوہنی صورت
اور پھر دل پر خنجر چلنے لگتا ہے
اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں
خیموں میں کوئی بچہ رونے لگتا ہے
چاروں جانب گھیرا جھوٹ کے لشکر کا
سچ کا سایہ اس پر پھیلنے لگتا ہے...