مرثیہ نمبر 2
(گزشتہ سے پیوستہ)
وہ کہتی تھی بس دیکھ لیا آپ کا بھی پیار
میں آپ سے بولوں گی نہ اب یا شہِ ابرار
اچّھا نہ اگر کیجیئے جلد آنے کا اقرار
مر جاؤں گی اس شب کو تڑپ کر میں دل افگار
کیسی ہیں یہ باتیں مرا دل روتا ہے بابا
گھر چھوڑ کے جنگل میں کوئی سوتا ہے بابا
اصغر کبھی ساتھ آپ کے اب...