(جلیل عالی)
بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے
اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے
آبجو پاس تھی بوند پانی کو ترسے ہوؤں کے لیے
منتظر باغِ جنت میں صبر و رضا کے ثمر اور تھے
نور پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ اور تھا
چور چہروں پر ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر اور تھے
گو رہِ عشق...