(غلام محمد قاصر)
جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر
فرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر
سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارے
جو کشتیٔ حق کا بادباں ہے سلام اس پر
جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیں
وہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر
مری زمینوں کو اب نہیں خوفِ بے ردائی
جو ان زمینوں...