شکریہ فرخ صاحب اس خوبصورت شعر کیلیئے۔ اقبال کے اس شعر کا مفہوم وہی ہے جو 'نرگس' اور 'دیدہ ور' والے اردو شعر کا ہے، یعنی عمروں تک کعبے اور بتخانے میں زندگی روتی (نوحہ گراں ہوتی) ہے اور پھر کہیں جا کر بزمِ عشق سے ایک راز جاننے والا ( سخنور بھی کہہ سکتے ہیں ;) ) آتا ہے۔
۔