مرثیہ نمبر 2
(گزشتہ سے پیوستہ)
سن کر یہ صدا آپ نے تلوار کو روکا
تلوار کو کیا برقِ شرر بار کو روکا
بے چین تھا پر اسپِ خوش اطوار کو روکا
گردوں کی طرف دیکھ کے رہوار کو روکا
فرمایا کہ جینے سے دل اب تنگ ہے گھوڑے
تھم جا کہ بس اب خاتمۂ جنگ ہے گھوڑے
اب سینے کو وقفِ تبر و تیر کریں گے
اب...