بہت خوب کہا فاتح صاحب :) ویسے حیران ہو رہا ہوں کہ کیا اعجاز ہے غالب کا کہ دو الگ الگ مصرعے بھی باندھ دو ایک خوبصورت شعر کا بھر پور لطف دے جاتے ہیں۔
"رونے سے اے ندیم، ملامت نہ کر مجھے"
"جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی"
معذرت خواہ ہوں نظامی صاحب کہ میری نظر سے کوئی مستقل کتاب تو نہین گزری غالب اور مولانا کے تعلق پر، لیکن ہونی تو چاہیئے۔
ویسے ان دونوں صاحبان کے تعلقات پر معلومات عموماً غالب کی ہر سوانح اور تذکرے میں ملتی ہیں، لیکن وہ سب قتیلانِ غالب کے نقطہ نظر سے ہوتی ہیں۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا چونکہ تعلق...
السلام علیکم ظفری بھائی، امید ہے مزاج بخیر ہونگے۔ اور اس وقت تو ماشاءاللہ رونق لگی ہوئی ہے محفل پر۔ اعجاز صاحب، فاتح صاحب، فرخ صاحب، شمشاد صاحب، اور تو اور محب علوی بھی، واہ واہ سبحان اللہ۔
رُباعی
اے مفتیِ شہر از تو پُرکار تریم
با ایں ہمہ مستی از تو ہشیار تریم
تو خونِ کساں خوری و ما خونِ رزی
انصاف بدہ، کدام خونخوار تریم
(عمر خیام)
اے مفتیِ شہر ہم تجھ سے زیادہ کارآمد ہیں، اس تمام تر مستی کے باوجود تجھ سے زیادہ ہوش مند ہیں۔ تو لوگوں کا خون پیتا ہے اور ہم انگور کا، تُو خود ہی انصاف...
آپ نے بالکل صحیح کہا فرخ صاحب اور بہت شکریہ آپ کا تصیح کیلیئے، اور میں خود حیران ہو گیا کہ ٹائپنگ کی ایک چھوٹی سی غلطی مفہوم کتنا بدل گیا۔ :) اور اپنی پوسٹ میں شعر بھی صحیح کر رہا ہوں۔
نوازش آپکی محترم اور ایک بار پھر شکریہ آپ کا۔
وہی اصلِ مکان و لا مکاں ہے
مکاں کیا شے ہے؟ اندازِ بیاں ہے
خصر کیوں کر بتائے، کیا بتائے
اگر ماہی کہے دریا کہاں ہے
اردو محفل پر خوش آمدید مرزا عباس صاحب!