فرخ صاحب یہ شعر بانگِ درا کے حصہ "ظریفانہ" میں سے ہے، مکمل قطعہ کچھ یوں ہے
ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے
واں کنڑ سب بلوری ہیں یاں ایک پرانا مٹکا ہے
اس دور میں سب مٹ جائیں گے، ہاں باقی وہ رہ جائے گا
جو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکا اپنی ہٹ کا ہے
اے شیخ و برہمن، سنتے ہو...