شکریہ تفسیر صاحب، بہت اچھی تصاویر ہیں۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ریگن کی ذاتی لائبریری میں کتنی کتابیں تھیں، سنا ہے جب اپنے میاں نواز شریف کے وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ ہوا تو انکے بیڈ روم سے صرف ایک کتاب نکلی تھی اور وہ تھی فون ڈائریکٹری :)
بہادر شاہ ظفر کی خوبصورت غزل فرخ صاحب (سخنور) کی نذر۔ مہدی حسن نے اس غزل کے اشعار بہت دلکش انداز سے گائے ہیں، مکمل غزل پیش ہے:
بات کرنی مجھے مشکِل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفِل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بیقراری تجھے اے دِل کبھی ایسی تو نہ تھی
اس...
گاھے کہ سنگِ حادثہ از آسماں رَسَد
اوّل بلا بہ مرغِ بلند آشیاں رَسَد
(ابو طالب کلیم کاشانی)
جب کبھی بھی حادثے (مصیبت) کا پتھر آسمان سے برستا ہے تو سب سے پہلی افتاد بلند و بالا آشیانے والے پرندے پر پڑتی ہے (ہم خاکساروں کو کیا)۔
اجی واہ واہ واہ، کیا بھاؤ بتائے ہیں جناب چیئر مین صاحب نے، وہ تو "پروفیشنل" رقاصاؤں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ اور یہ بھی سمجھ آئی کہ "ریونیوز" جاتے کدھر ہیں، سب سے مزے کا سین تو دکھایا ہی نہیں گیا، "جنرل کے ٹھمکے" واہ واہ واہ۔
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔
لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم...
Hasan Sahib, as per rules of the game, the next word should start with the second last alphabet of the given word, so T in this case.
I give word with T
Tranquility
Next...T (again)
رضا صاحب آخری مصرعے کو درست کر دیجیئے، "آئینہ ہے کیا" کی جگہ "آئینہ کیا ہے" ہونا چاہیئے، شکریہ۔
جی باسم صاحب، میں شاکر القادری صاحب کے تراجم دیکھ چکا ہوں، کیا لا جواب کام ہے شاکر القادری صاحب کا، سبحان اللہ۔