ایں قدر مستم کہ از چشمَم شراب آید بروں
وز دِلِ پُر سوزنم دُودِ کباب آید بروں
میں اس قدر مست ہوں کہ (اب) شراب آنکھوں سے بھی ٹپک رہی ہے، اور میرا دل (محبت کی) سوئیوں اور سلاخوں پر (کباب کی طرح) اٹکا ہوا ہے کہ اب اس کے جلنے کی بُو باہر آ رہی ہے!
صبح دم تو رُخ نمودی، شُد نمازِ من قضا
سجدہ کے باید...