دود سودائے تُتَق بست آسماں نامیدمَش
دیدہ بر خوابِ پریشاں زد، جہاں نامیدمَش
(غالب دھلوی)
خیالِ خام کا ایک دھواں سا ہمارے سر پر چھا گیا، میں نے اسکا نام آسمان رکھ دیا، آنکھوں نے ایک پریشان خواب دیکھا اور میں نے اسے جہان کہہ دیا۔
بہت شکریہ فاتح صاحب خوبصورت وضاحت کیلیے!
نظامی صاحب، ایک بات یہ کہ رباعی کے چوبیس اوزان میں سے یہ صرف ایک وزن ہے، مبتدیوں کو رباعی کا وزن یاد کرانے کیلیئے ابتدا میں یہ وزن سکھایا جاتا تھا کہ "مصرع" ہر کسی کی زبان پر ہے :) اور اگر صرف اسی وزن میں چاروں مصرعے کہیں تو وہ رباعی ہے اس لیے سیکھنے...
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاضب، بہت داد قبول کیجیے جناب!
سبھی اشعار بہت اچھے ہیں لیکن یہ تو بہت ہی اچھے لگے مجھے!
کتنے چہرے ہیں کہ پردے میں چھپے جاتے ہیں
شہرِ خاموش سے کس کس کو پکارا جائے
کیا خوبصورت بات ہے، کیا آفاقی سچائی ہے، کیا درد ہے اس شعر میں، لا جواب!
اور یہ شعر، کلاسیکی شاعری کا...
آپ کی نیک تمناؤں کیلیے بہت شکریہ مانی چیمہ صاحب، ہم بھی اس محفل کے قتیل ہیں اور خوشی ہوتی ہے کسی اور قتیل کو دیکھ کر :)
یہ شعر مجھے بہت اچھا لگا، لیکن شاید کچھ یوں ہوگا:
شاید کبھی خلوص کو منزل نہ مل سکے
وابستہ ہے مفاد ہر اک دوستی کے ساتھ
درست فرمایا سید صاحب نے، لیکن دیوانے خال خال تو ہو سکتے ہیں ناپید نہیں :)
با غم و دردِ محبت سروکارے دارَم
ہست صد داغ بہ دل، باغ و بہارے دارم
عزِّ شاہی بَرَہَش گرد و غبارے دارم
قصرِ جنت چہ کنم کوچہ یارے دارم
ترسِ دوزخ چہ کنم رُوئے نگارے دارم
مجھے تو صرف محبت کے غم اور درد ہی سے سروکار ہے۔
میرے...
جزاک اللہ نوید صاحب، دکھ ہوا آپ کی علالت کا سنکر، اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دیں!
خالد صاحب کا اردو محفل اور ہماری طرف سے بہت شکریہ ادا کیجیئے گا، نوازش ان کی۔ مجھے ایک دفع "بیاض" کہیں سے ملا تھا، واقعی بہت اچھا جریدہ ہے!
شکریہ فرخ صاحب!
ان دو اشعار میں سہو کاتب ہے!
اس شعر کے مصرعہ ثانی کے وزن میں مسئلہ لگا تھا لیکن شاید صحیح ہے، "خوب" کو "خب" اگر سمجھا جائے تو، لیکن اسکا مطلب ابھی تک سمجھ نہیں آیا :)
باقی مقطع کا مصرعہ ثانی جسطرح زبان زد عام ہے "سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے" اسکے متعلق فاتح صاحب...
شکریہ نظامی صاحب، یہ تضمین بھی لا جواب ہے!
آج آپ نے فون پر سید نصیر الدین نصیر صاحب کے فارسی مجموعے کا ذکر کیا، تب سے دل بیتباب ہو ہو جا رہا ہے! لیکن کاش سید صاحب اس میں ترجمہ بھی شامل کر دیتے کہ مجھے کلام سے لطف اندوز ہونے کی فرصت بھی ملتی :)
یہ بھی لاجواب غزل ہے نظامی صاحب، اور ترجمہ آپ کی خواہش پر :)
قصرِ جنّت چہ کُنَم کوچۂ یارے دارَم
ترسِ دوزخ چہ کنم رُوئے نگارے دارم
میں جنت کے محلوں کو کیا کروں کہ یار کا کوچہ رکھتا ہوں (کوچے میں ہوں)، دوزخ کا غم کیا کروں کہ ہمارے سامنے تو فقط محبوب کا چہرہ ہے (اسی میں گم ہیں)!
ہمچو مجنوں بہ...