بہت خوبصورت غزل ہے، شکریہ شاہ صاحب شیئر کرنے کیلیے!
تھم تھم کے اُن کے کان میں پہنچی صدائے دل
اُڑ اُڑ کے رنگِ چہرہ مرا نامہ بر ہوا
فریاد کیسی ؟ کس کی شکایت ؟ کہاں کا حشر ؟
دنیا اُدھر کی ٹوٹ پڑی وہ جدھر ہوا
وارفتگئی شوق کا اللہ رے کمال!
جو بے خبر ہوا وہ بڑا باخبر ہوا
واہ واہ واہ، لاجواب