دادا مرحوم کی ایک غزل احباب کے ذوق کی نذر:
وہ چشمِ نم وہ قلب وہ سوزِ جگر کہاں
چلنے کو راہِ عشق میں رختِ سفر کہاں
خالی صدف ہے نقدِ متاعِ گہر کہاں
آنکھیں ہی رہ گئی ہیں حیائے نظر کہاں
بچتا ہے سنگ و خشت کی زد سے یہ سر کہاں
یہ کوئے عاشقی ہے تم آئے ادھر کہاں
وہ گل وہ گلستاں وہ بہاریں وہ نغمگی
پہلی...