کچھ دنوں قبل برادرِ خورد کی شادی خانہ آبادی کے سلسلے میں بذریعہ گرین لائن ٹرین کراچی جانے اور آنے کا اتفاق ہوا.
اس سے پہلے اس ٹرین کا صرف تذکرہ سنا تھا جس میں زیادہ تر تعریفی اور کچھ تنقیدی تبصرے تھے۔
بہرحال اب جبکہ خود کراچی جانے کا مرحلہ درپیش تھا تو فیصلہ کیا گیا کہ اس نئی ٹرین کے سفر کا...
فاتح بھائی کی شراکت، امیر مینائی کی غزل تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے نظر سے گزری۔ اسی زمین میں دادا مرحوم کی ایک غزل احبابِ محفل کے ذوق کی نذر:
یادِ یزداں آخری سِن کے لئے
کچھ اٹھا رکھیے بُرے دن کے لیے
کون جانبر ہو سکا از دردِ عشق
کیا دوا اس دردِ مُزمن کے لیے
رنج و غم فکر و الم حزن و ملال
آدمِ...
غالباً کہیں ابن سعید بھائی نے ذکر کیا تھا کہ پہلے ٹیبل وغیرہ ڈالنے کی سہولت دی گئی تھی، مگر کچھ مسائل کی بنا پر ہٹا دی گئی۔
مگر میرا اس تجویز سے مکمل اتفاق ہے کہ جس طرح اقتباس، سرگوشی اور کوڈ کے شارٹ کٹس ہیں، اسی طرح کی کوئی صورت بنائی جائے۔
واہ واہ فاتح بھائی کیا کہنے۔ بہت عمدہ غزل کہی ہے۔
شکریہ جاسمن بہن کا کہ اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا، اور ہمیں امید دلائی کہ آپ کو گوشے کھنگالنے کی چنداں ضرورت نہیں، ہم پڑھواتے رہیں گے۔ :)