تو اس میں اس بیچاری کا کیا ْقصور۔ حسن تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ اس طرح قصوروار تو مرنے والے خود ہوئے نا۔
عاطف بھائی بات میں دم ہے نا؟
دم کو زبر سے پڑھنا ہے
بننے کی کیا ضرورت۔ ہم تو بنے بنائے معصوم ہیں بھائی۔ بس آپ ہی لڑنے پہ اکساتے رہتے۔ ورنہ آپ کو معلوم کہ بھلے ہم ساری دنیا سے لڑائی کر لیں مگر اپنے بھائیوں سے کبھی نہیں کرتے۔ وہ تو آپ کے بغیر محفل سونی لگ رہی ہوتی پہے۔ اس لئے ٹیگ کرنا پڑتا ہے۔
یہی تو مقصد رہا ہو گا روؤف بھائی کا ۔ ورنہ کوئی اچھا سا پیارا سا نام بھی لکھ سکتے تھے۔
اب چراغ دین جیسے ناموں سے تو ایک ہی پھونک میں پھونک ڈالنے کو دل چاہے گا نا۔ ہماری طبیعت پہ گراں گزرا یہ نام۔ :rollingonthefloor: