میں ذاتی طور پر دراصل شعر کو شعر کے لطف کا حامل ہونے میں شعر کہلائے جانے کا قائل ہوں۔ عروضی قواعد کو لفظی نزاکتوں کےمحل وقوع کے اور الفاظ و تراکیب کے برتاؤ کے تمام پہلؤوں کو مد نظر رکھے بغیرغیر مشروط طور پر لاگو کرنا بسا اوقات شعر کے لطف اورمعانی کی روح کو قید کرنے کے مترادف ہو جانے کا خدشہ ہوتا...