بس تو فیصلہ ہو گیا۔ کہ ہر انسان جو یہ کالم پڑھ رہا ہے۔ پڑھ چکا ہے۔ یا اپنی لفاظی سے اس کالم کو مستفید کر چکا ہے۔ اگر اس میں ایسی کوئی خامی عملی طور پر ہے تو وہ اپنے آپ کو بدلے گا۔ انشاءاللہ۔ محض گفتار کا غازی نہ بنے گا۔ یوں ہی اس تحریر کا حق ادا ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر صرف صفحے کالے کرنے والی بات...