یہ قاعدہ دراصل عربی زبان کی قراءت کاہے ۔ جب ن ساکن کےبعد ب آتا ہے تو اسے (بولنے میں )م کر دیا جاتا ہے۔جیسے ذنب (گناہ) کو ذمب پڑھا اور بولا جاتا ہے۔اس قاعدے کا نام "اقلاب کا قاعدہ" ہے۔یہی قاعدہ ہم نے اردو میں بھی امپورٹ کر لیا ہے اوراسے تمام ایسے الفاظ مثلاً گنبد ۔ دنبالہ۔ دنبہ وغیرہ پر لاگو کر...