نتائج تلاش

  1. سید عاطف علی

    عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

    مطلع ٹھیک ہے مگر دادرسی والا مصرع کمزور ہے۔ کہ کا استعمال معنی کے لحاظ سے لطیف نہیں ۔ پہلے مصرع سے مطابقت اچھی نہیں ۔ باقی اچھی ہے ۔
  2. سید عاطف علی

    آن لائن جریدے سمت کے تازہ شمارے ۲۴ کا اجراء

    واہ زبر دست اعجاز بھائی۔۔ کیا اصلی شمارہ بھی انہی مندرجات پر مشتمل ہوتا ہے یا یہ ویب ایڈیشن اس کا انتخاب ہو تا ہے؟
  3. سید عاطف علی

    اقتباسات میر کی نازک مزاجی

    نازک مزاج آپ قیامت ہیں میر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. سید عاطف علی

    اقتباسات میر کی نازک مزاجی

    ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے، خوش رہیں شاہ جی
  5. سید عاطف علی

    سینئر سٹیزن یا معمر خواتین و حضرات

    عزیزامین ایک دفعہ پھر سے اعادہ کردیں کہ یہ دھاگا کس پیرائے کی بنیاد میں کھولا گیا تھا ۔ کیا اس سے مراد مختلف ریاستوں میں جوحقوق حاصل ہو جاتے ہیں ان کا نشر کر نا اور اس موضوع سے متصلہ امور رو رمفید معلومات سے متعلق بحث اور آراء جمع کرنا تھا ؟ یا محض محفل کے اعدادو شمار اور خوش گپیوں تک محدود تھا...
  6. سید عاطف علی

    عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

    عظیم ۔مطلع پر ۔آمین۔
  7. سید عاطف علی

    مینار پاکستان تاریخی جلسہ تصاویر میں

    عارف کریم کے قصے کہ آخر میں زلیخا والا سوال۔:ROFLMAO:
  8. سید عاطف علی

    ایک روتے ہوئے کینیڈین کا پیغام پاکستانیوں کے نام!

    بھئی آنسوؤ ں کا مذاق تو نہ بناؤ یارو۔
  9. سید عاطف علی

    ایک روتے ہوئے کینیڈین کا پیغام پاکستانیوں کے نام!

    کینیڈا والے سردی سے روتے ہیں کیا ؟:)
  10. سید عاطف علی

    تعدد، ارتعاش اور جیومیٹری یعنی فریکوئنسی، ریزونینس اور جیومیٹری

    بہت خوب صورت مظاہرہ ہے۔جیو قیصرانی بھائی میرے خیال میں ان جیومیٹریکل ڈیزائنز کا بنیادی انحصار سیاہ پلیٹ کے چوکور ساخت پر ہوگا۔ اور غالباِ یہ دھاتی ہو گی جو ان آوازوں (100 - 6000) کی فریکویسیز کو بہتر انداز میں ٹرانسفر کر تی ہیں ۔ اگر یہ میٹل والی بات درست ہو تویہ سب ڈیزائنز ہر میٹل میں مختلف...
  11. سید عاطف علی

    ایک مصرع جو دِل کو چُھو جائے

    پھر پرسش ِ جراحت ِ دل کو چلا ہے عشق غالب-
  12. سید عاطف علی

    میری ایک تازہ غزل ۔تجھ پاس ہے جو چیز، وہ گل پاس نہیں ہے

    تجھ پاس ہے جو چیز، وہ گل پاس نہیں ہے وہ رنگ نہیں اس میں وہ بوُ باس نہیں ہے لب لعلِ بدخشاں ہیں تو آنکھیں ہیں زمرُّد طرّے کو ترے حاجت ِ الماس نہیں ہے ہے خون ِ تمنّا سے مزیّن مرا نامہ گوحاشیہ زیبائی ءِ قرطاس نہیں ہے کیوں کر ہو بیاں لذّتِ اشک ِ شب ِ مہجور اس کا کوئی پیمانہ ؤ مقیاس نہیں ہے اک...
Top