عید الاضحی کے دن میری آٹھویں غزل کے بعد
کچھ اشعار ایک تازہ غزل کے پیش ہیں تمام احبابِ محفلین ،دوستوں اور اساتذہ کی تنقیدی نظر کے لیے۔کہیں کہیں کچھ کسر لگ رہی ہے۔
کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
ہم لامکاں میں ایک مکاں ڈھونڈتے رہے
مسحور اک طلسم ِ ندیدہ سے عمر بھر
تھامے چراغ تیرا نشاں...
موقف اپنا پیش کیا جانا چاہیے خواہ کالم کا حوالہ دے دیا جائے ۔ تاکہ بحث کومثبت رکھا جاسے اور ممکنہ اعتراض کے رخ کو موقف پیش کر نے والے کی طرف رکھا جاسکے نہ کہ کالم نگار کی طرف جسے کچھ خبر ہی نہیں۔
ہاں بھئی زیک اس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا تو دنیا بھر کی سیکڑوں عمارات کا عام آرائشی وطیرہ ہے۔
میری حیرت کی وجہ ملالہ کے انعام و اعزاز پراس کا رنگ بدلنا تھا جو دھاگے کے عنوان اور ٹیکسٹ سے ظاہر ہو رہا ہے۔
ایک شعر ذہن میں آرہا ہے۔غالب کا
تو!!! ۔اور آرائشِ خم ِ کاکل!!!!!
میں !!! اور اندیشہ...
یہ مچھلی ۔ Arabian grouper۔ اور یہاں ۔یہاں سعودی عرب میں ۔ہامور۔یا ۔ہمور۔ کے نام سے معروف ہے۔
http://ar.wikipedia.org/wiki/%D9%87%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B1
کہیں پڑھا تھا کہ سیاسی افکار اور طرزحکومت کے سلسلے میں قدیم ہندو رہنماؤں کے مقابلے میں خلافت راشدہ کی مثالیں دیا کرتے تھے۔
اس بنیاد پر کہ یہ تاریخی طور پر مسلّم اور محکم ہیں۔اور یہ کہ گاندھی جی از حد سادہ انسان تھے۔