انیس سو اٹھاسی کی شکستہ یادوں سےکچھ مصرعے ۔اس کے بعد پھر اس عظیم نظم سے کبھی واسطہ نہ پڑا۔ شاید اللہ کے اس بندے کے لیے کچھ تحریک کا سبب بن جائیں۔اور امید بر آنے کی کوئی سبیل نکلے۔
دنیا کی جو الفت کا ہوا دل کو سہارا۔۔۔
آیا تھا کسی شہر سے اک ہنس بیچارہ
کنجھن میں کلنگوں میں بھی چاہت کی مچی جنگ...