اس بحر کو میں فاعلن فاعلن مفاعیلن سمجھتا تھا ۔
مطلع اور دوسرا شعر کا انداز تخیل کی طرف متحدو مرکوز نہیں ہے۔
اور بعض بھی تراکیب لطیف تناسب سے عاری ہیں مثلاً ماہ اور شادابی۔
اہل خطّاب ، لایعنی اور بھدّی ترکیب لگ رہی ہے ۔
چھیڑ کر نا بھی ٹھیک ہے مگر تاروں کے لیے مناسب نہیں ۔چھیڑنا ہی ہونا چاہیے...