نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والے حصے کا اصل متن ۔ ارباب ذوق کے لیے۔بشکریہ
http://www.adab.com
أمن بعدِ تكفين النبي ودفنه نَعِيْشُ بآلاءِ وَنَجْنَحُ للسَّلْوَى
رزئنا رسولَ الله حقاً فلن نرى بذلك عديلاً ما حيينا من الردى
وَكُنْتَ لَنَا كَالْحِصْنِ مِنْ دُوْنِ أَهْلِهِ لَهُ مَعْقِلٌ...
ادب دوست بھائی۔
http://urdubookslibrary.blogspot.com/2014/06/dars-e-nizami-al-khamesa-5th-year-free.html
مندرجہ بالا فہرست میں آخری کتاب یہی ہے۔اور دیگر کئی موضوعات پر اور کتب بھی ہیں ۔
ارباب ذوق محفلین اور قارئین کے لیے اصل متن کہ جو عربی بلاغت کا خاصہ ہے۔
قفا نبك من ذِكرى حبيب ومنزل - - - بسِقطِ اللِّوى بينَ الدَّخول فحَوْملِ
فتوضح فالمقراة لم يَعفُ رسمهاَ - - - لما نسجتْها من جَنُوب وشمالِ
ترى بَعَرَ الأرْآمِ في عَرَصاتِها - - - وقيعانها كأنه حبَّ فلفل
كأني غَداة َ...
ِہیں خمش کن خار ہستی را ز پائے دل بکن
تا ببینی در درون خویشتن گلزارہا
بس تو خاموشی سے دل کے پاؤں سے خود( پرستی ) کا کانٹا نکال دے ۔ اور پھر دیکھ تیرے اندر کیسے کیسے گلزار(کے جلوے) موجو د ہیں ۔
میرے بچپن کا پورا وقت وسطی اندرون سندھ کے شہر شہدادپور میں گزرا ۔1974۔سے 92 تک پھر 1993 سے 2007 تککراچی میں اور اب 2007 سے اب تک ریاض سعودی عرب۔۔۔۔
لو ! میں نے بچپن کے ذکر میں پوری زندگی لکھ دی۔
میرے خیال میں تو مِن و عن کا تلفظ ۔ منو عن۔ ہے یہاں شدہ نہیں ۔عربی لفظ پر شدہ تو شاید ہمیشہ کسی عربی قاعدے کے تحت آتا ہے ۔ جب کہ یہ عربی سے اردو لہجے میں ڈھلی ہوئی ترکیب یا مروج محاورہ لگتا ہے اورغالباً ایسا ہی اہل علم حضرات سے سننے میں آتا ہے۔بہت سے عوام اسے مَن و عن بھی کہتے ہیں ۔۔ ۔ و...