تشبہیہ کی مثال میر کی ایک غزل سے لے لیں ۔استعارے کا فرق شاید اس مثال سے واضح ہو جائے۔
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے۔
نازکی ان لبوں کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے۔
میرے خیال میں زبور عجم کا بہت سا کلام ایسا ہے جو تحلیل نفسی داخلی کیفیات اور قلبی واردات کے گہرے نقوش کا عکاس ہے اور جس کی شدت کلام سے نہ صرف محسوس ہوتی ہے بلکہ قوت اور قدرت بیان سے دوآتشہ ہوجاتی ہے ۔
شاید اسی باعث آپ نے کہا کہ ۔ اگر ہو ذوق تو خلوت میں پڑھ زبور عجم ۔فغان نیم شبی بے نوائے...
میں بھی فلکر سے ہی کرتا ہوں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ۔آپ اپنی تصویر کو مطلوبہ سائز میں کھولیں اور پھر اس کا لنک استعمال کریں ۔
فلکر کی فوٹو سٹریم سے نہ کریں ۔
ہماری سابقہ فرانسیسی کمپنی الکاٹیل میں ٹریننگ کا جو مواد فرانس سے آتا تھا اس میں لائینکس کہا جاتا تھا۔اس لیے تلفظ کا خیال آیا۔
کافی اصطلاحی الفاظ کے تلفظ میں کئی طرح کا رواج ہوتا ہے۔ جیسے کچھ لوگ کیش میموری کو کےشے میموری کہتے ہیں۔
مالدیپ ۔کا ریٹ بھی کوئی دیکھے ۔ میرا خیال تھا کہ شہر کی بات ہوئی ہے سوال میں ۔
گنیس ریکارڈ۔
http://www.guinnessworldrecords.com/world-records/highest-divorce-rate