جی ہاں عارف ! لیکن یہ تو قانون کے عدم نفاذ کی وجہ سے ہو گا ۔ نہ کہ آمر کی وجہ سے۔
مثلاًً اب سات آٹھ سال کی جمہوریت میں بھی تو ایسا ہی ہو رہا کے کہ قانون ان جمہوری نمائندوں کے سامنے بے بس ہی نظر آتا ہے ۔
جمہوریت ہو یا صدارتی نظام ہو یا آمریت ہی کیوں نہ ہو ۔ قانون کے نفاذ اورانصاف کی فراہمی سے ملک میں بہتری آنے کا امکان ہے ۔
اگر قانون کی عملداری ہی نہیں ، تو کوئی بھی نظام ہو کس کام کا؟