(مجھے)لگتا ہے کہ وفات کر نا فارسی محاورہ کے ترجمہ کی بنیاد پر شامل ہوا اور شاید مستعمل بھی رہا ہے ۔لیکن وفات پانے کے محاورے کی موجودگی میں مقبول نہیں رہا چنانچہ اسی لیے اب شاید ہی کہیں نظر بھی آتا ہو۔ تعشق لکھنوی کے وقت کی زبان کے کئی اور الفاظ اب مکمل طور پر متروک ملیں گے۔ لیکن...
واہ بہت اچھی غزل ہے نور صاحب۔
میرے خیال میں اصلاح کی تو ضرورت نہیں البتہ ایک تجویز ہے کہ "جبکہ "کی جگہ" اور" کردیا جائے تو اسلوب ذرا شعری اور ہو جائے ۔ جبکہ سے کچھ منطقی استدلال کا سا تاثر آتا ہے جو مضمون سے موافق بھی ہے۔
یہ مسئلہ بچہ کے چے کو غیر مشدد استعمال کر نے کا ہے ۔
فارسی میں پیام مشرق میں ماہی بھے اور شاہیں بچے کی گفتگو بھی اسی طرز پر ہوئی ہے۔
ماہی بچہ اے شوخ بہ شاہیں بچہ اے گفت
ایں سلسہ اے موج کہ بینی ہمہ دریاست۔۔۔۔زد بانگ کہ ۔۔۔۔۔۔الخ
۔
بھئی زیک یہ بھی تو کہہ سکتےہو کہ پ کی پاک آواز موجود ہے ۔ "نا" کا بوجھ کیوں ڈالتے ہوبھائی ؟
ویسے یہ اپنا اپنا تاثر ہے ۔ جنوبی ہند کی ساحلی زبانیں اگر ٹ ڈ ڑ پر فخرکریں تو کیا ہوا کیا کریں ۔ اسی طرح خیبر پختون خواہ والے خ پر نازاں ہوں، سو ہوا کریں۔
چاندنی شب ۔
مجھے یہ ترکیب کچھ شستہ اسلوب سے موافق نہیں لگی ۔ شب کی صفت کیلیے چاندنی کچھ مناسب محسوس نہیں ہوئی بقیہ لہجہ خوب شستہ ہے اور غزل بھی یقیناًً بہت اچھی ہے۔۔۔