اب کچھ اس کے مضمرات (پوٹینشل ممکنہ اثرات) پر اظہار رائے بھی ہو جائے ۔ اونٹ ایک کروٹ بیٹھ تو گیا ۔
لیکن اندرونی ملکی معاملات اور بیرونی معاملات میں کیا تبدیلیاں ممکن ہو سکتی ہیں ۔
ان دونون کی ترجیحات میں کیا کیا بنیادی فرق ہیں ؟
جا ناں توئی کلیم و منم چوں عصائے تو
گہ تکیہ گاہ گشتم و گہ اژدھائے تو
مولانا۔
اے جاناں! تو میرا کلیم ہے اور میں جیسے تیرا عصا۔
کبھی تو تیرا سہارا بن جاتا ہوں اور کبھی تیرا اژدھا۔
جو مہذب اور پابند لوگ ہیں وہ پابندی کا خیال رکھنے میں اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ وہ کہاں ہیں۔البتہ پاکستان میں جو روش عام ہے وہ تو معروف ہی ہے۔
میرے خیال میں ہائی وے پر پابندی اب کی جانے لگی ہے۔
تقطیع کچھ کھینچ تان کر ہو سکتی ہے البتہ اب بہتر ہوگیا ہے۔
تاہم لگتا ہے پہلا مصرع دوسرے سے کچھ اور پیوستہ اور قوی ہوسکتا ہے۔
پہلے مصرع میں "کہیں " یا "کبھی " کا استعمال شعر کے تخیل کو مزید بہتر اسلوب عطا کر سکتا ہے۔