در اصل ردیف قافیہ غزل کے لوازمات میں سے ہے اور غزل اردو شاعری کی نازک ترین صنف ہے ۔
سو ایسی غزل میں ردیف کا آخری ٹکڑے، حرف یا آواز کو ردیف مقدرہ صورت میں مان لیا جاتا ہے تاکہ قاعدے سے ہم آہنگ رہے اور اس طرح اس میں کوئی حرج نہیں رہتا۔ واللہ اعلم۔
الطاف حسین حالی نے تقریبا سو سال پہلے کہا تھا ۔
شریعت کے ہم نے جو پیمان توڑے
وہ لے جا کے سب اہل مغرب نے جوڑے
لیکن ابھی تک وہیں کھڑے ہیں ،ہم آج تک تاریخ کو اپنے نقطہء نظر ہے ہٹ کر کم ہی دیکھ پائے ہیں ۔
اسلام میں ریاست کے احکام موجود ہیں اور وہ محض اصول اور مبادی تک ہی ہیں ۔
باقی تمام نظام میں...
پتہ نہیں ابھی تک اس دھاگے میں شاعری آئی یا نہیں ۔ تاہم اس تصویر سے نہیں بلکہ آپ کے مراسلے سے ایک شعر ذہن میں آگیا۔
دور بہت بھاگو ہو ہم سے،،،،،سیکھے طور غزالوں کا
وحشت کرنا شیوہ ہے سب اچھی آنکھوں والوں کا
کہیں آپ میرتقی میر جیسا لباس پہن کر غزالوں کے پاس تو نہیں گئے جو وہ دوڑ پڑے۔ :)
کوئی زرافہ ہڈیاں کھاتا ہوا بھی دکھائی دیا؟
کہیں پڑھا تھا اور کافی حیرت ہوئی کہ زرافے باوجود چرندے ہو نے کے فاسفورس ،کیلشیم وغیرہ کی کمی دور کرنے کے لیے ہڈیاں بھی کھاتے ہیں ۔