یاد آیا کہ بانگ درا کی شعری لیبارٹری میں اقبال نے "محبت" نام کا مرکب ایجاد کر نے کا پریکٹکل معہ ترکیبوفارمولا بیان کیا ہے ، نظم کا نام بھی غالبا محبت ہی ہے۔ اس کے اجزا میں تارے کی چمک، بجلی کی تڑپ ،چاند کے داغ اور حور کی پاکیزگی کو چشمہ ء حیواں کی پانی میں گھولا اور اس کمپاؤنڈ نے عرش اعظم سے...