عروض والے تو کوئی شاید نام تجویز کر ہی ڈالیں گے ۔ تاہم جتنا وہ نام اجنبی ہوگا اس سے کہیں زیادہ اجنبی یہ بحر ہوگی ۔ لبتہ نرسری کے بچوں کی نظم کے لیے ٹھیک رہے شاید۔ :)
یہ میری رائے ہے فقط۔
مجھے ان اشکوں کی کمی محسوس ہوئی جو اشک پیازی ہوتے ہیں لیکن پیاز سے پیازی نہیں ہوے خون جگر کی آمیزش درکار ہوتی ہے۔
تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں ، کیا لذت ایسے رونے میں
جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
مثنوی کے لیے کوئی خاص وزن یا بحر مخصوص نہیں ۔
میر حسن کی سحر البیان کی بحر ۔فعولن فعولن فعولن فعول ۔ہے
دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم کی بحر ۔مفعول مفاعلن فعولن ۔ہے۔
دونوں مثنویاں زبان و بیان کا شاہکار ہیں ۔
جیسے قدرت کے معنی قادر پر منحصر ہیں ،اسی طرح فطرت کے معنی بھی کسی فاطر کے مرہون منت ہیں ۔
سائنس انسان کی زندگی کا ایک " بہت " محدود اور مفید حصہ ہے بشرطیکہ اسے اس کے مقام پر رکھا جائے ۔
ہمارے والد صاحب کا بی پازیٹو اور والدہ صاحبہ کا او پازیٹو تھا ۔ دس موجودہ بہن بھائیوں میں واضح اکثریت بی پازیٹو کی ہے ۔ البتہ چند ایک کا اوپازیٹو بھی ہے ۔