ایسے میں آسیہ کا موجودہ موقف سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔اگر اس کا رویہ معذرت خواہانہ (خواہ مشروط طور پر بھی ) ہو تو بھی فائدہ اسی کو ملے گا۔واللہ اعلم۔
اچھا! تو کیا اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہائی کورٹ کی سزائے موت پر عمل کبھی نہیں ہو سکتا کیوں کہ سپریم کورٹ میں اپیل تو شاید ہر کوئی کر سکتا ہے یا دوسرے الفاظ میں سزائے موت سپریم کورٹ ہی دے سکتی ہے؟
پھر تو مولویوں کو ان نکات پر علمی بحث کرنی چاہیئے جن کی بنیاد پر فیصلہ بدلا گیا ۔ جب کہ ایسی توکوئی...
کچھ عجز بیان کا شکار ہے مصرع ۔ انداز سے ایسا لگ رہا ہے کہ شعوری محبت کی صفت ہے ادھوری کی طرح ، جب کہ مدعا یہ نہیں بلکہ شعوری سے مراد محبت کی ضد ہے ۔ (اس طرح ایک مخمصہ سا ہوگیا)
اچھی غزل ہے البتہ کچھ تصنع کا ساشائبہ بھی گزرتا ہے جس کی وجہ سے پختگی اور شعری لطافت ہو رہی ہے تاہم کئی جگہ انداز بیان بہت اچھا ہے ۔
تبصروں کے اکثر نکات بھی بر محل مذکور کیے ہیں ان سے رہنمائی لینا بہتر ہے ۔
ایک عدالت جب سزائے موت سنا چکی تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا ؟
جب دوسری عدالت اس سزا کو کالعدم قرار دے تو یہ بتانا بھی واجب ہوگا کہ پچھلی عدالت سے کیا پوشیدہ رہا جو فیصلہ تبدیل ہوا۔ اور اس بات کی کیا وجوہات رہیں کہ سالوں عمل نہ ہوا ؟
کیا یہ باتیں بھی سامنے آئیں ؟
جدید و قدیم اسالیب میں عام رہا ہے سو ناجائز کہنا مشکل ہے ۔مستحسن البتہ نہیں ۔ واللہ اعلم ۔
جی چھین لیا اس نے دکھا دست حنائی۔ کیا ہات ہے کیا ہات ہے کیا ہات ہے واللہ
۔جرات
ویسے عدالتیں ان مسائل کو بھی اتنی ہی سنجیدگی اور مستعدی سے اہمیت دیں تو کتنا اچھا ہو جن پر ملک کا مستقبل منحصر ہے۔ مثلاََ پنامہ کرپشن سوئس بینکس منی لانڈرنگ وغیرہ۔
پچھلے ادوار میں حاکم پارٹی بیرونی قومی قرضے لینے کو ایک ایسا طریقہ سمجھتے تھے جیسے یہی تمام ملکوں کو چلانے کا صحیح اور مستحسن طریقہ ہے اور واپس کرنا بعد میں دیکھا جائے گا۔
یہ الگ قصہ ہے کہ اس قرضے کو کہاں اور کس طرح استعمال کیا گیا۔
اس حکومت نے حتی المقدور ایسے قرضے سے احتراز کرنے کی فکر کا...