ہیں!!!! فلک شیر بھائی۔۔۔ نظر تو ہمیں آج تک نہیں لگی۔۔۔ اور بقیہ کی خواہش تو کب سے دل میں دبی ہے۔۔ شاید کوئی صورت نکلتی ہو۔۔۔ ہاہاہاہاہہاااااا ویسے کیا واقعی ہٹا دوں۔۔۔
کیا ہی خوب اور اعلیٰ کلام آپ کے توسط سے مجھ تک پہنچا۔ اور یہ شعر تو جیسے یوں لگا۔۔۔ کہ حسبِ حال ہے۔ :) دوسرے مصرعے کے مفہوم سے ملتا جلتا شعر یاد آرہا ہے۔ چونکہ اسیر جونؔ ہیں۔ سو مثال بھی وہیں سے آئے گی۔ :)
کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
صحیح کہا نایاب بھائی۔۔۔ جاوید اختر کا کلام بہت خوبصورت ہے۔ آپ نے یہ کھیل کیا ہے پڑھی ہے۔ جس کا تذکرہ اس مضموں میں بھی ہے۔ میں نے محفل پر بھی پیش کی ہوئی ہے۔ :)
اور مضموں کو سراہنے پر ممنون ہوں :)
یہ صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب ہمیں اپنی صلاحیتیوں سے مکمل طور پر آگہی نہیں ہوتی، اور ہم اس بات کا ادراک کرنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ کسی بھی پیش آئی صورتحال میں ہمارا عمل اور رویہ کس قدر بہتری یا ابتری کی صورت پیدا کر سکتا ہے۔