غالب کی غزل کا مقطع ہے یہ ۔۔۔ دیوان غالب جو وکی سورس پر موجود ہے۔ اس میں یہ غزل موجود ہے۔۔۔ :) مکمل غزل ملاحظہ کیجیے
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
صبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جی
جس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے
مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیال
تا باز گشت سے...