سلیقہ عشق میں میرا ، بڑے کمال کا تھا
کہ اختیار بھی دل پر عجب مثال کا تھا
میں اپنے نقش بناتی تھی جس میں بچپن سے
وہ آیئنہ تو کسی اور خط و خال کا تھا
رفو میں کرتی رہی پیرہن کو اور ادھر
گماں اسے میرے زخموں کا اندمال کا تھا
درخت جڑ سے اکھڑنے کا موسموں میں بھی
ہوا کا پیار شجر...