(212 )
توڑ دی ۔ ہائے اب کوئی سہارا نہیں رہا ۔ تمہیں اپنے پہلو میں دیکھتے ہوئے مجھے وہ بھروسہ ہوتا تھا ۔ جو بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہوتا ہے ۔ تم میرے پشت پناہ تھے ۔ ہائے اب کسے دیکھ کر دل کو ڈھارس ہو گی ۔ آہ ۔ اگر تم کو اتنی جلدی رخصت ہونا تھا تو پہلے مجھی کو مر جانے دیتے ۔ میں نے تمہیں اب...