آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
جیسے خالی آنکھوں میں بھی وحشت رہتی ہے
ہر دَم دُنیا کے ہنگامے گھیرے رکھتے تھے ،
جب سے تیرے دھیان لگے ہیں ، فرصت رہتی ہے
کرنی ہے تو کُھل کے کرو ‘ انکارِ وفا کی بات
بات ادھوری رہ جائے تو حسرت رہتی ہے
شہرِ سخن میں ایسا کُچھ کر ‘ عزت بن جائے
سب...