کرتا ہُوں جمع میں تو بِکھر تی ہے ذات اور
باقی ہے کِتنی اے مرے مولا ، یہ رات اور !
لیتی ہے جلتی شمع بھی بُجھنے میں کُچھ تو وقت
ہے آدمی سا کوئی کہاں بے ثبات اور !
سیلاب جیسے لیتا ہے دیوار کے قدم
کرتا ہے غم بھی دل سے کوئی واردات اور
یوں تو حضورِ پاک کے لاکھوں ہیں مدح خواں
تائب سی...