انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ہے
دُھواں سا دِل سے اُٹھے بھی تو کون دیکھتا ہے
مرے لیے کبھی مٹّی پہ سردیوں کی ہَوا!
تمہارا نام لکھے بھی تو کون دیکھتا ہے
اُجاڑ گھر کے کسی بے صَدا دریچے میں،
کوئی چراغ جَلے بھی تو کون دیکھتا ہے
ہجومِ شہر سے ہٹ کر، حُدودِ شہر کے بعد!
وہ مُسکرا کے مِلے...