ہر ایک زخم کا چہرہ گُلاب جیسا ہے
مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہے
تُو زندگی کے حقائق کی تہ میں یُوں نہ اُتر
کہ اس ندی کا بہاؤ چناب جیسا ہے
تِری نظر ہی نہیں حرف آشنا ورنہ
ہر ایک چہرہ یہاں پر کتاب جیسا ہے
چمک اُٹھے تو سمندر، بجھے تو ریت کی لہر
مِرے خیال کا دریا سراب جیسا ہے