رُخ سے پردہ اٹھادے ذرا ساقیا، بس ابھی رنگِ محفل بدل جائے گا
ہے جو بے ہوش وہ ہوش میں آئے گا گرنے والا ہے جو وہ سنبھل میں آئے گا
تم تسلی نہ دو صرف بیٹھے رہو ، وقت کچھ میرے مرنے کا ٹل جائے گا
کیا یہ کم ہےمسیحا کے رہنے سے ،موت کا بھی ارداہ بدل جا ئے گا
تیر کی جاں ہے دل ، دل کی جاں تیرہے، تیر...