وہی پرانی عادت۔۔۔ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں۔
چونکہ یہاں بول نہیں سکتے اس لیے جو منہ میں آتا ہے لکھ دیتے ہیں۔
دعاؤں کے لیے شکریہ۔ اللہ پاک قبول فرمائیں۔ آمین
سوچنے کی بات تو ہے مگر حالات اور وقت دغا دیتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ تو مہینوں میں شاید ایک آدھ مراسلہ لکھا ہو۔
ہاں تین لاکھ ہو جائیں۔۔۔ایسا سوچا جا سکتا ہے مگر کب کیوں اور کیسے سامنے آ جاتے ہیں سوالیہ نشان لیے۔