وہ جو دیر و حرم کی باتیں ہیں
سب ترے دم قدم کی باتیں ہیں
تُو ستم سے تو پیش آتا ہے
یہ بھی تیرے کرم کی باتیں ہیں
فردِ اعمال میں - مرا کیا ہے؟
کچھ خدا، کچھ صنم کی باتیں ہیں
مے کشو! پوری چاشنی سے سنو
زاہدِ محترم کی باتیں ہیں
ہر سیہ رات کے پسِ پردہ
صبحِ نو کے جنم کی باتیں ہیں
آپ اور اِس فقیر...