اس کی وجہ یہ ہے کہ بوہری چاند دیکھنے کے بجائے اپنی فاطمی دور کی تشکیل کردہ جدولی تقویم استعمال کرتے ہیں۔ اُس میں نہ صرف عاشورہ، بلکہ ہر تہوار دیگر مسلمانوں کے دنوں سے ایک دو دن پہلے پڑتا ہے، اور یہ صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔
ہندی اردو لغت - راجہ راجیشور راؤ
اردو ہندی شبدکوش - محمد مصطفیٰ خان مداح (دیوناگری)
دیوانِ نیاز (فارسی + اردو) - حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی
دیوانِ ہلالی جغتائی
مطلعِ خورشید یعنی دیوانِ نانک - لالہ نانک چند کھتری
ہیر رانجھا قیس منظوم - مولوی صوفی عبد الغفور قیس
یادگارِ انیس
نقشِ دوام - عبد...
میں وہ کوئی ہوں جس کا خدائی میں نام ہے
کہتے ہیں جس کو حُسن سو مجھ پر تمام ہے
عالم میں میری جلوہ نمائی کا ہر طرف
غوغا ہے غل ہے شور ہے اور دھوم دھام ہے
خلقت کے کان پُر ہیں اسی ذکر سے ہوئے
ہر ہر زبان پر یہی بات اور کلام ہے
جس دل میں دیکھئے تو ہماری ہی چاہ ہے
جو آنکھ ہے سو تک رہی ہم کو مُدام...
بھلے حقیقت ہوگی۔ لیکن ہر چیز کو قوم پرستی کے تنگ چشمے سے دیکھنا کون سی دانشمندی ہے؟ کل بھائی صاحب الطاف کے ڈرون حملے کو بھی مہاجر پنجابی تک لے گئے تهی، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ الطاف اور متحدہ پر تنقید مہاجروں سے تعصب رکھنے والے لوگ کر رہے ہیں۔ اب یہ کون سی حقیقت ہے؟ میں اور میرے...
جی ضرور۔ ابھی بھی کافی کتابیں اپلوڈ کرنے کے لیے پڑی ہیں۔ اُن میں معدودے چند کو چھوڑ کر زیادہ تر کتب اردو و فارسی ادب، اور تاریخ پر ہی ہیں۔ جوں جوں اپلوڈ کرتا جاؤں گا، توں توں اُن کے روابط دھاگے پر دیتا جاؤں گا۔
میں پوری غزل پوسٹ کر رہا ہوں: (پاکستانی فارسی املاء میں)
کسے کہ سرِّ نہانست در عَلَن ہمہ اوست
عروسِ خلوت و ہم شمعِ انجمن ہمہ اوست
بمصحفِ رخِ خوباں ہمیں نمود رقم
کہ خط و خال و رخ و زلفِ پرشکن ہمہ اوست
زِ سرِّ عشق چو واقف شوی یقیں دانی
کہ قیس و لیلیٰ و شیرین و کوہکن ہمہ اوست
نظر بعیب مکن...
کہتے ہیں جس کو عشق ہمارا ہی نام ہے
شور و فغاں کی اپنے یہاں دھوم دھام ہے
گر پھونک دوں جہان کو تو کچھ عجب نہیں
میں آگ کا بھبوکا ہوں میرا یہ کام ہے
ہوش و خرد سے ہم کو سروکار کچھ نہیں
اِن دونوں صاحبوں کو ہمارا سلام ہے
منزل ہماری پاتے ہیں کب شیخ و برہمن
اسلام و کفر سے پرے اپنا مقام ہے
دیر و...
ابھی شاہ نیاز کا اردو دیوان دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ در حقیقت دو الگ الگ غزلیں ہیں جن کے اشعار کو آپس میں خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ میں یہاں وہ دونوں غزلیں ارسال کر رہا ہوں۔
غزل یکم
عشق میں آ عجب مزا دیکھا
خویش و بیگانہ آشنا دیکھا
نکتۂ انما سے واقف ہو
چہرۂ یار جا بجا دیکھا
بلکہ یہ بولنا تکلف ہے...
روح کو راضی کیا میں نے تو راضی دل نہ تھا
ورنہ اٹھنا محفلِ ہستی سے کچھ مشکل نہ تھا
چار آنکھیں ہوتے ہی قابو میں گویا دل نہ تھا
کہہ گذرنا ورنہ حالِ ہجر کچھ مشکل نہ تھا
سننے والے میرا قصہ سن کے یوں دیتے ہیں داد
یا تو یہ زندہ نہ تھا یا پاس اس کے دل نہ تھا
یہ رموزِ جذب ہیں مجنوں سے پوچھا چاہیے...