بسیار خوب وپل بھائی۔
میں آپ کی اس غزل کو درست املا میں لکھ رہا ہوں۔ دیکھ لیجئے اور ذہن نشین کر لیجئے۔
خامے میں میرے گردشِ ہجر و وصال ہے
سو یہ غزل بھی خونِ تمنا سے لال ہے
توہینِ اوجِ یار اگر ہو نہ تو کہوں
قامت میں روزِ حشر بھی کیا باکمال ہے
جی سے تمہارے خوفِ قیامت بھی اٹھ بنے
تم کو میں گر...