مسجدِ زیست میں اک عمر جبیں سائی کی
مرحبا کس نے کہا، کس نے پذیرائی کی؟
مُڑ کے دیکھا، نہ کبھی زحمتِ گویائی کی
واہ کیا بات ہے اُس پیکرِ رعنائی کی
کچھ نے شاعر کہا اور کچھ نے کہا دیوانہ
یہ ملی ہم کو سزا تجھ سے شناسائی کی
'کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق'
یوں تو کرتے ہیں سبھی بات شکیبائی کی...