چہرے کے علاوہ کسی بھی جگہ کا بوسہ لینا میرے نزدیک معیوب ہے۔
نیز جس قسم کی تعظیم مسٹر طاہرلقادری کے لئے جاری ہے وہ صرف اللہ ہی کے لئے کی جانی چاہیے۔ صرف اللہ ہی سجدے کے لائق ہے۔
جیسی قوم ہو ویسے ہی حکمران نافز کر دیے جاتے ہیں۔ ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم حکمرانوں کے خلاف بول کر غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ لیکن اپنی اجتماعی اور خاص کر انفرادی برائیوں کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔
میری رائے تو اس معاملے میں یہی ہے کہ وہ قوانین جو قرآن میں دیے گئے ہیں وہ تو لافانی ہیں۔ باقی تمام معاملات میں وقت اور مقام کے مطابق قانون سازی کی جاسکتی ہے۔
رجم کی سزا چونکہ قرآن میں موجود نہیں لہزا زمان و مکان کے مطابق ہر قوم قانون سازی کرسکتی ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بنایا گیا...
یار عنوان سوچ سمجھ کر دینا تھا۔ میں تو ڈر ہی گیا۔ عصمت دری کی اصطلاح عموما جنسی طور پر ہراساں کرنے والے معاملے میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں معاملہ ذرا اور ہے۔
شائد آپ کے علم میں نہ ہو لیکن اردو بلاگستان میں بارہ سنگھے کی عرفیت ایک صاحب کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اگر وہ صاحب بادل نا خواستہ ادھر آ دھمکے تو آپ کی خیر نہیں۔
لہذا۔۔۔ذرا بچ کے!
:grin:
بلاگر اعظم کے چودہ نکات
جون ۲۰۱۰ء کے وسط میں جب اردو بلاگستان کے حالات کشیدہ ہوگئے تو بلاگر اعظم نے یکم جولائی ۲۰۱۰ء کو آل بلاگستان چھاپہ لیگ کے سالانہ اجلاس میں چودہ نکات پیش کئے جو تحریک بلاگستان میں سنگ تذلیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بلاگر اعظم کےچودہ نکات درج ذیل ہیں:- (مزید پڑھیے۔۔)
ابھی اس بات کی فکر نہ کرو کہ ٹھیک لکھا کہ غلط۔۔ بس کوشش کر کے لکھتی رہو۔ پہلی منزل ربط تحریر ہے۔ جو آہستہ آہستہ آتا جائے گا۔ سوچ کا ارتکاز دوسری منزل ہے۔
:)